اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے خلاف یوسف رضا گیلانی کی درخواست کو مسترد کردیا

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے خلاف سابق وزير اعظم یوسف رضا گیلانی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  پاکستان میں اسلام آباد  ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے خلاف سابق وزير اعظم یوسف رضا گیلانی  کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سینٹ الیکشن کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دینے کا  12صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ  بھی جاری کر دیا جس  میں کہا گیا ہے کہ نہ درخواست قابل سماعت ہے اور نہ ہی نوٹس جاری کرنے کے لیے آرٹیکل 199 کے تحت اختیار کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔عدالت توقع کرتی یے کہ منتخب نمائندگان پارلیمان کے وقار اور خودمختاری کو برقرار رکھیں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت عدالتوں کو ایسے معاملات میں ملوث کیے بغیر تنازعات کا حل نکالنے کے لیے کوشش کرے۔ آئین میں دیئے گئے اختیارات اور استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی قیادت تنازعات کا حل کرے۔

جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق پی ڈی ایم کے پاس چیئرمین سینٹ کے لیے اکثریت موجود ہے۔اگر اکثریت موجود ہے توپی ڈی ایم نہ صرف چیئرمین سینیٹ کو ہٹا سکتی ہے بلکہ یوسف رضاگیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنا بھی سکتی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ سینیٹ کے سات ارکان کی جانب سے آئینی طریقہ استعمال کرنے پر پارلیمان کی عزت اور خودمختاری میں اضافہ ہوگا۔عدالت مطمئین ہے کہ آئینی طریقہ کار کے استعمال سے واضح ہوجائے گا کہ ان سات سینیٹرز نے آپ کو ووٹ دیا تھا۔ یہ عدالت پارلیمان کے استحقاق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔

News Code 1905797

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 0 =