سعودی عرب کے وزیر خارجہ سیز فائر کی پیشکش کرنے پر مجبور ہوگئے

سعودی عرب کی گذشتہ 6 سال سے یمن پر مسلط کردہ جنگ میں ہزاروں یمنی شہید اور زخمی ہوگئے ،سعودی عرب نے ہمیشہ جنگ بندی کی مخالفت کی ۔ حالیہ ہفتوں میں یمنی فورس نے سعودی عرب کے اندر اہم اقتصادی اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے سعودی عرب سیز فائر کی پیشکش کرنے پر مجبور ہوگیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان  سعودی عرب کی یمن پر گذشتہ 6 سال سے مسلط کردہ جنگ میں سیز فائر کی پیش کش کرنے پر مجبور ہوگئے۔  

سعودی عرب کی گذشتہ 6 سال سے یمن پر مسلط کردہ جنگ میں ہزاروں یمنی شہید اور زخمی ہوگئے ،سعودی عرب نے ہمیشہ جنگ بندی کی مخالفت کی ۔ حالیہ ہفتوں میں یمنی فورس نے سعودی عرب کے اندر اہم اقتصادی اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے سعودی عرب سیز فائر کی پیشکش کرنے پر مجبور ہوگیا۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب کی جنگ بندی کی پیشکش اقوام متحدہ کی سابقہ پیشکش پر مبنی ہے۔ سعودی عرب کی پیشکش یمن پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمہ ، یمن کا محاصرہ ختم کرنے اور مسائل کو سیاسی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر مشتمل ہے۔

سعودی عرب کے وزير خارجہ نے کہا کہ اگر یمن کی اسلامی تنظيم انصار اللہ نے اس تجویز کو قبول کرلیا تو جنگ بندی کی پیشکش کو فوری نافذ کردیا جائےگا۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ایران پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ یمنی فورسز اور قبائل کی حمایت کررہا ہے اور اب حوثی قبائل کو اپنے مفادات اور تہران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑےگا۔ ذرائع کے مطابق یمن پر مسلط کردہ جنگ میں سعودی عرب کو تاریخی شکست کا سامنا ہے سعودی عرب اس وحشیانہ اور ظالمانہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا اور یمنی عوام ، فورسز اور قبائل کی تاریخی استقامت نے سعودی عرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ سعودی عرب کو اس ظالمانہ جنگ میں دس ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن وہ یمن میں اپنے سیاسی اہداف اور مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔

News Code 1905771

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 7 =