چین نے امریکہ اور جاپان کے وزراء دفاع کے الزامات کو بےبنیاد قراردیدیا

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے چین کے خلاف امریکی اور جاپانی وزرائے دفاع کے حالیہ مشترکہ بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پر امریکہ اور جاپان کے وزراء دفاع کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسپوٹنک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے چین کے خلاف امریکی اور جاپانی وزرائے دفاع کے حالیہ مشترکہ بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پر امریکہ اور جاپان کے وزراء دفاع کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بیان چین کی خارجہ پالیسی پر رکیک حملہ، چین کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ چین اس اقدام پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کے تحت عالمی تسلیم شدہ نظام کی یک طرفہ تشریح نہیں کرسکتے اور نہ ہی اپنے پیمانوں کو دوسروں پر مسلط کرنے کے مجاز ہیں۔ چین عالمی امن کو برقرار رکھنے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کےلیے ہمیشہ ایک اہم قوت رہا ہے۔ چین نے 112 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت قائم کی ہے، 100 سے زائد بین الحکومتی عالمی تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے اور 500 سے زائد کثیرجہتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں عالمی امن دستے بھیجنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ جبکہ امریکہ ہمیشہ دوہرے معیار پر قائم رہا ہے، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو اپنی پسند کی نظر سے دیکھتا ہے اورامریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں سیکڑوں فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں۔ عالمی امن و سلامتی کےلیے سب سے بڑا خطرہ کون ہے؟ اس حوالے سے عالمی برادری اپنی رائے دے سکتی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ تائیوان، ہانگ کانگ، سنکیانگ، بحیرہ جنوبی چین اور دیاو یو جزیرے کے بارے میں چین کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔قومی اقتدار اعلیٰ، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے دفاع کےلیے چین کا عزم چٹان کی مانند مضبوط ہے۔ امریکہ اور جاپان کا مشترکہ بیان تاریخی حقائق اور سچائی کے منافی ہے۔

News Code 1905704

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 3 =