بھارتی کسان بھارتی حکومت کی توقعات سے زیادہ باہمت ثابت ہوئے

بھارتی سرکار کے خلاف بھارتی کسانوں کے احتجاج اور تحریک کا سلسلہ جاری ہے بھارتی کسان سرکار کےظالمانہ قوانین کو منسوخ کرنےکے اپنے ٹھوس مطالبات پرسیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند قائم ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق بھارتی سرکار کے خلاف بھارتی کسانوں کے احتجاج اور تحریک کا سلسلہ جاری ہے بھارتی کسان  سرکار کےظالمانہ قوانین کو  منسوخ  کرنےکے اپنے ٹھوس مطالبات پرسیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند قائم ہیں۔

بھارتی کسانوں کی جاری تحریک بھارتی سرکار کے  آمرانہ اور ظالمانہ فیصلوں کے خلاف ایک مضبوط اورناقابل تسخیر تحرک میں تبدیل ہوگئی ہے۔ کسانوں کی تحریک ملک کی دیگر چھوٹی تنظیموں کے لیئے اعلیٰ عملی نمونہ بن رہی ہے۔ لیکن بھارتی سرکار طاقت کے بے جا استعمال کے ذریعہ کسانوں کی ناقابل شکست تحریک کو کچلنے اور دبانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔

بھارتی سرکارکسانوں کی تحریک کو بدنام کرنے کی بھی کوشش کررہی ہے تاکہ اس کے خلاف پورے ملک میں ایک پرتشدد ذہنیت تیار ہوجائے جیسا کہ گزشتہ برس شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف تیار کی گئی تھی اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ "سی اے اے" کی مخالفت کرنے والےغدار ہیں جہادی ہیں ماؤ نواز ہیں اس کو بدنام کرنے کے لیے پورے سماج بالخصوص ہندوؤں کے اندر نفرت پیدا کی گئی اوراسی کے نتیجے میں تحریک چلانے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بہت سے لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

بھارتی سرکار کسانوں کی تحریک کو بدنام کرنے کے راستے پر گامزن ہے بھارتی سرکار کے کسانوں کے ساتھ  تمام مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ کسان بھارتی سرکار کو مذاکرات میں سنجیدہ تصور نہیں کرتے ہیں ۔

کسانوں نے بھارتی سرکار کے ساتھ  مذاکرات اوراس کے ناکام منصوبوں کی نبض پکڑ کر اس کی بدنیتی اور بیماری کا  خوب جائزہ لیا ہے بی جی پی مختلف طریقوں سے دیش بھگتی، سیکولرازم  ... کا نقاب لگا کر اصلی چہرہ چھپانے کے در پے ہے  اس سلسلے میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا جس کسان کے وجود کو زرعی قوانین کی بیماریوں سے خطرہ ہو وہ سڑک پر ہی آئے گا اوروہ  اپنے حقوق کا احتجاج اور بلند آواز کے ذریعہ دفاع کرے گا۔

جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی

منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

 مودی سرکار کسانوں کو آہستہ آہستہ کر کے ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ بھارت میں  کیپٹلزم کے نئے طوفان کی آمد کا اشارہ ہے۔ کسان ، حکومت کی اس پالیسی کو سمجھ چکے ہیں لہذا وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لئے سراپا احتجاج بن کر میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

کسان تحریک کو بھارت کے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی طبقات کی بھر پور حمایت حاصل ہے ہندو ،سکھ ، عیسائی اور مسلمان اس تحریک میں پیش پیش ہیں ۔ اس تحریک میں مسلم خواتین بھی شامل ہوگئی ہیں اور گذشتہ جمعہ کو انھوں نے نماز ادا کی اور ان مسلم نمازی خواتین کی حفاظت کے لئے سکھ اور جاٹ کسان دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ ایسے قرائن اور شواہد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کسانوں کی تحریک مضبوط انداز میں کامیابی کی طرف گامزن ہے۔  بھارتی کسان بھارتی سرکار کی توقعات سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں ۔بھارتی شہری بلا تفریق مذہب و ملت ایکدوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ بے مثال اتحاد کسان تحریک کی کامیابی کی علامت اور بھارت کی ترقی کا مظہر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: سید محمد ، ر ، موسوی

تصحیح: سید ، ذ ، ح ، جعفری

News Code 1905654

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 9 =