مشترکہ ایٹمی معاہدے میں ایران کی پالیسی عمل کے جواب میں عمل پر استوار ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے برطانوی وزير اعظم بوریس جانسن کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں ایران کی پالیسی عمل کے جواب میں عمل پر استوار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے برطانوی وزير اعظم بوریس جانسن کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں ایران کی پالیسی عمل کے جواب میں عمل پر استوار ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ کی سابق صدر ٹرمپ کی وجہ سے عالمی سطح پر تعاون کو نقصان پہنچا ہے اور اب اس کے نقصانات کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ حکومت بھی صرف مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنے کا د عوی کررہی ہے لیکن اس سلسلے میں اس نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کرنا صرف ایران کے لئے نہیں بلکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل اس میں شریک تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کیا لیکن دوسرے فریقوں نے اس پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ایران نے بھی اس پر عمل کرنے کو ترک کردیا اب اگر مشترکہ ایٹمیم عاہدے میں شریک ممالک اس پر عمل کریں گے تو ایران بھی عمل کرےگا ۔

اس گفتگو میں برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کو بچانے کے سلسلے میں برطانوی اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ برطانوی وزير اعظم نے کہا کہ ہم سب اس معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے سنجیدہ ہیں ۔ برطانوی وزیر اعظم نے برطانیہ میں ایرانی اثاثہ اور سرمایہ کو بھی واپس کرنے پر تاکید کی۔

News Code 1905611

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =