دنیا کی ہر تین میں سے ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کی ہر تین میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور کورونا وائرس وبا کے دوران اس کا رجحان کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے  کہ دنیا کی ہر تین میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور کورونا وائرس وبا کے دوران اس کا رجحان کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جاری کردہ رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ٹی او) کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں حکومتوں کو بہتر قانون سازی، متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور معاشی عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی عدم مساوات کے باعث خواتین اور لڑکیاں ایسے تعلقات کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں جہاں انہیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ڈبلیو ایچ او حکام نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ لڑکوں کو اسکول اور تعلیمی اداروں میں خواتین کے باہمی احترام کی ترتبیت دینا ضروری قرار دیا جائے ۔

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او ٹیڈروس ایڈہینوم غیبریسس کا کہنا تھا کہ ہر ملک اور کلچر میں خواتین پر تشدد کا رجحان وبائی صورت اختیار کرگیا ہے۔ بالخصوص کووڈ 19 کے دوران اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اپنی نوعیت کی اس سب سے بڑی تحقیق میں دنیا کے کم و بیش سبھی ممالک کی 2000ء سے 2018 ء تک کی معلومات جمع کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 15 سے 49 سال کی 31 فی صد خواتین جن کی تعداد 85 کروڑ سے زائد بنتی ہے جسمانی یا جنسی تشدد و ہراسانی کا سامنا کرچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین پر ان کے خاوند یا ساتھی مردوں کا تشدد عام ہے اور غریب ممالک میں ایسے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان ممالک میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ریپ کے واقعات کی درست تعداد بھی سامنے نہیں آتی۔

News Code 1905606

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 12 =