مشترکہ ایٹمی معاہدے پر اب تک صرف ایران نے ہی عمل کیا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے 140 قانون سازوں کے خط کے بارے میں کہا ہے کہ گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ہونے والے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر اب تک صرف ایران نے ہی عمل کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے 140 قانون سازوں کے خط کے بارے میں کہا ہے کہ گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ہونے والے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر اب تک صرف ایران نے ہی عمل کیا ہے۔

امریکہ کے 140 قانون سازوں نے ایک خط میں امریکہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تمام اختلافی مسائل کو کسی جامع معاہدے کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس خط کے رد عمل میں ایرانی وزير خارجہ نے اپنے ایک ٹوئیٹر بیان میں کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ ایک جامع معاہدہ ہے جس میں امریکہ، روس، چين، برطانیہ، فرانس، جرمنی  اور ایران شامل ہیں ۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر اب تک صرف ایران نے عمل کیا ہے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک کو اس معاہدے کے مطابق اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی جوابی کارروائی کے لئے آمادہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے 140 قانون سازوں نے امریکی صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے علاوہ کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ ایک عالمی اور جامع معاہدہ ہے اور اس معاہدے کے علاوہ کسی اور معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔

News Code 1905597

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =