پاکستانی وزیر اعظم کا ہفتے کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لوں گا اور عدم اعتماد کی صورت میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے  اعلان کیا  ہے کہ ہفتے کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لوں گا اور عدم اعتماد کی صورت میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔عمران خان نے کہا کہ میں سب کے سامنے پوچھوں گا کہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں اگر میں اہل نہیں ہوں اور مجھ پر اعتماد ظاہر نہیں کیا جاتا تو میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔

عمران خان نے کہا کہ ایوان سے پوچھوں گا کہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں اور اگر آپ علی الاعلان مجھ پر عدم اعتماد کریں گے تو میں آپ کی عزت کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو میرا پیغام ہے کہ اگر اقتدار چلا جاتا ہے تو میرا کیا نقصان ہوگا۔ مجھے سرمایہ جمع نہیں کرنا اور جائیداد نہیں بنانی۔ سفر اور سکیورٹی کے علاوہ مجھ پر حکومت کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہورہا۔ آپ کو بتانا چاہتا ہوں جب تک آپ ملک کا لوٹا مال واپس نہیں کرتے ، اقتدار میں نہ بھی رہوں تو آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ملک ایک عظیم ملک اس وقت بنے گا جب اس میں ڈاکوؤں کو سزائیں ملیں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کیا میری اکیلے کی ذمے داری ہے کہ میں ان ڈاکوؤں کے پیچھے پڑا رہوں۔ قوم کو بھی اس حوالے سےاپنی ذمے داری ادا  کرنا ہوگی۔ کرپٹ لوگوں پر پھول نہیں پھینکے جاتے۔ دنیا میں ایک ملک بتائیں جہاں کرپٹ لوگوں کے لیے جزا و سزا کا نظام نہ ہو اور وہاں ترقی ہورہی ہو۔

قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  کہ میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے۔ پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپرز کی مخالفت کی اگر ایسا ہوجاتا تو آج جو ہمارے ایم این اے بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے۔ الیکشن کمیشن نےسینیٹ میں بکنے والوں کو بچا لیا۔ سینیٹ میں پیسے لے کر ہماری سیاست کو کرپٹ کیاگیاہے، کرپٹ ٹولے نے ووٹ چوری کےلیےخفیہ بیلٹ کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ کو سپریم کورٹ نے موقعہ دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپر پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔  آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقار مجروح کیا ہے اور اسے نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مسائل کو سمجھنے کے سینیٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اسے سمجھنا ضروری ہے۔ سینیٹ میں گذشتہ تیس چالیس سال سے پیسہ چلتا ہے۔ جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ ارکان پارلیمنٹ کو خریدتا ہے۔

News Code 1905523

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 7 =