سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا

امریکی انٹیلیجنس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا، جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے ولیعہد ربارہ راست ملوث ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس نے سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کردی ہے ۔ امریکی انٹیلیجنس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا، جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے ولیعہد ربارہ راست ملوث ہیں۔ امریکی رپورٹ میں کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل کا براہ راست حکم صادر کیا تھا۔

امریکی رپورٹ کے مطابق جمال خاشقجی کو 2018 میں استنبول کے سعودی سفارت خانہ میں قتل کیا گیا تھا۔ جمال خاشقجی سعودی حکومت پر تنقید کےحوالے سے شہرت رکھتے تھے،

جمال خاشقجی اکتوبر 2018 میں دستاویز لینے سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ جہاں انھیں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔

سعودی حکام نے خاشقجی کو ترکی میں قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بعض افراد کو گرفتار بھی کیا تھا سعودی عرب نے قاتلوں کی ایک ٹیم ترکی بھیجی تھی ۔

مقتول جمال خاشقجی کی باقیات کو اب تک سعودی عرب نے ان کے اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا ، عالمی دباؤ میں سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 افراد کو سزائے موت سنائی جبکہ بعد میں خاشقجی کی موت میں ملوث مجرموں کی سزائے موت کو 20 برس قید میں بدل دیا گيا ۔

اقوام متحدہ کے خصوصی روئیداد نویس نے سعودی عرب کے فیصلے کو انصاف سے دشمنی اورعداوت قراردیا تھا، روئیداد نویس نےکہا تھا خاشقجی کو سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر قتل کیا گیا۔  ذراغع کے مطابق خاشقجی کے قتل کو چھپانے کے لئے سعودی عرب ایک بار پھر امریکہ کو بھاری رشوت دینے کی تیاری کررہا ہے اس سے قبل سعودی عرب نے سابق امریکی ٹرمپ کو خاشقجی کے قتل کو نظر انداز کرنے کے سلسلے میں بھاری رشوت ادا کی تھی۔

News Code 1905445

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 10 =