احسان اللہ احسان کے فرار میں مدد فراہم کرنے والے فوجیوں کے خلاف کارروائی ہوچکی

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظيم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظيم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے آفس میں غیرملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج  میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ چند برس قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا اور اس پر مکمل تحقیقات کے بعد اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی، احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن فی الوقت علم نہیں ہے کہ احسان اللہ احسان کہاں ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کا ساتھ دینے والے فوجیوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی اس کے بارے میں میجر جنرل بابر افتخار نے کچھ نہیں کہا۔

گزشتہ دنوں تحریک طالبان کے سابق ترجمان کی جانب سے نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پرقتل کی  دھمکی دی گئی ہے۔ جس ملالہ یوسفزئی نے احسان اللہ احسان کے فرار پر انگلی اٹھائی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی طرف سے آج بھی افغانستان میں سرگرم طالبان دہشت گردوں کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے افغان اور پاکستان طالبان ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔

News Code 1905414

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =