ملک کی ضرورت کے مطابق یورونیم کی افزودگی 60 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پارلیمنٹ کے قوانین پر عمل کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایران میں یورینیم کی افزودگی کی حد 20 فیصد تک نہیں بلکہ ملک کی ضرورت کے مطابق یورونیم کی افزودگی 60 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے خبرگان کونسل کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں پارلیمنٹ کے قوانین پر عمل کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایران میں یورینیم کی افزودگی کی حد 20 فیصد تک نہیں بلکہ ملک کی ضرورت کے مطابق یورونیم کی افزودگی 60 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حالیہ دنوں میں ایران کے متعلق امریکہ اورتین یورپی ممالک کے ادبیات اور بیانات کو متکبرانہ، آمرانہ  اور غیر منصفانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور تین یورپی ممالک کے حالیہ بیانات کی وجہ سے ایرانی عوام ان سے مزید متنفر ہوجائیں گے اور ایران اپنے منطقی ایٹمی مؤقف سے ایک اینچ بھی پیچھے نہیں ہٹےگا، ایران اپنی ضرورت کے مطابق یورینیم کی افزودگی کو 60 فیصد تک بھی لے جاسکتا ہے۔

رہبر معظم کانقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں حضرت امام جواد علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا:حضرت امام خمینی (رہ) نے توکل، تکلیف، ایثار، قربانی، جہاد اور شہادت کے مفاہیم سے معاشرے کو آشنا کیا اور انہی مفاہیم کے ذریعہ ایرانی عوام نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں کامیابی حاصل کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جہاں ہم نے ان مفاہیم پر عمل کیا وہاں ہمیں کامیابی نصیب ہوئی اور جہاں ہم نے غفلت کی وہاں ہم کامیابی سے محروم ہوگئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی پارلیمنٹ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں وعدوں میں بتدریج کمی لانے کا قانون منظور کیا  اور حکومت نے بھی اس کا خیر مقدم کیا  ، کل تک اس سلسلے میں بعض اقدامات انجام دیئے گئے ہیں اور ایک قدم آئندہ کل اٹھایا جائےگا۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی اس سلسلے میں ایک آواز ہونی چاہیے اور حکومت ، پارلیمنٹ کے قانون پر عمل کرنے کی پابند ہے اور یہ قانون بھی اچھا ہے اس پر دقت کے ساتھ عمل ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ اور تین یورپی ممالک کے حالیہ بیانات اور ادبیات کو متکبرانہ اور غیر منصفانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کیا لیکن جب امریکہ  اس معاہدے سے خارج ہوگیا تو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایران کو بھی خارج ہوجانا چاہیے تھا لیکن ایرانی حکومت نے ایسا نہیں کیا بلکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے مطابق عمل جاری رکھا ، لیکن اس کے باوجود امریکہ اور تین یورپی ممالک نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر کوئی عمل نہیں کیا اور ایران کو فریب دینے کی کوشش کی لہذا مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں مذکورہ 4 ممالک کو جواب دینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صہیونی حکومت کی طرف سے ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہیے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت  حتی صہیونیوں کے آقا بھی نہیں روک سکتے لیکن اسلامی اصولوں کے مطابق ایٹمی ہتھیار بنانے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور نہ ہی ہم ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتے ہیں ہمارے پاس اپنے دفاع کے لئے کافی مقدار میں روایتی ہتھیار موجود ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا : پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ایران کا حق ہے اور ایران پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے اپنے جد وجہد جاری رکھے گا جبکہ مغربی ممالک اس میدان میں ایران کو اپنا محتاج رکھنا چاہتے لیکن ایران پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ممالک کا محتاج نہیں رہےگا ۔

News Code 1905382

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =