میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں میں شدت/ فوج کی گولی لگنے سے ایک خاتون ہلاک

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی ہے اور اب بدھ بھکشوؤں کے ساتھ ساتھ ملک کی اقلیتی برادری بھی حکمراں آنگ سان سوچی کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے میدانِ عمل میں نکل آئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی ہے اور اب بدھ بھکشوؤں کے ساتھ ساتھ ملک کی اقلیتی برادری بھی حکمراں آنگ سان سوچی کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے میدانِ عمل میں نکل آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق میانمار میں بدھ بھکشوؤں نے بھی فوجی بغاوت کے خلاف ریلی نکالی۔ جس کے بعد ہم جنس پرستوں کی تنظیم، اقلیتی برادری اور دیگر نسلی گروہ بھی مظاہرے کا حصہ بن گئے ملک میں جاری فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں میں اقلیتی برادری کی یہ پہلی شمولیت تھی۔

ملکی اقتدار پر قابض فوج نے احتجاجی ریلیوں میں اضافے کے بعد نئے انتخابات کرانے اور کامیاب جماعت کو اقتدار سونپنے کا اعلان کے باوجود میانمار میں فوجی قبضے کے خلاف مظاہرے یکم فروری سے جاری ہیں اور ان کا مرکز تجارتی و تاریخی شہر رنگون ہے۔

میانمار فوج نے فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اب طاقت کا استعمال بھی شروع کردیا ہے، جمعہ کے روز ایک نوجوان خاتون سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی تھی۔

میانمار فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں شامل شرپسندوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار گزشتہ روز دوران علاج ہلاک ہوگیا۔ واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار فوج نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرکے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

News Code 1905353

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =