یورپی عدالت نے  100 افغان شہریوں کی ہلاکت کے جرم سے جرمنی کو بری کردیا

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے افغانستان میں جرمن کرنل کے حکم پر فضائی حملے کے نتیجے میں 100 افغان شہریوں کی ہلاکت کے مقدمے میں جرمنی کو بری کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے افغانستان میں جرمن کرنل کے حکم پر فضائی حملے کے نتیجے میں 100 افغان شہریوں کی ہلاکت کے مقدمے میں جرمنی کو بری کردیا۔ اطلاعات کے مطابق یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے جرمن کرنل جارج کلین کے حکم پر ہونے والی بمباری کے نتیجے میں 100 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے مقدمے میں جرمنی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قندوز حملے میں جرمنی نے انسانی حقوق کے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوئی۔

یہ مقدمہ جرمنی کے خلاف 4 ستمبر 2009 کو ہونے والے اس حملے میں جاں بحق دو بھائیوں کے افغان والد محمد حنان نے دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ جرمن کرنل نے میرے بیٹوں کو زندہ رہنے کے حق سے محروم رکھا۔ اس مقدمے میں افغان والد نے جرمنی پر ہرجانے کی رقم کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے صوبے قندوز میں  جرمن ایئر بیس کے نزدیک دو چوری شدہ آئل ٹینکر ملے تھے جس کے نزدیک تیل جمع کرنے کے لیے شہریوں کا ہجوم موجود تھا اور کرنل جارج کلین نے امریکی کمانڈرز کو ٹینکرز اُڑانے کا حکم دیا تھا۔

جرمن کرنل کے حکم پر نیٹو طیاروں نے ٹرک کو دھماکے سے اُڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ زیادہ تر طالبان ہلاک ہوئے تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

News Code 1905310

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 4 =