ایران کے نزدیک پابندیاں ختم کئے بغیر مشترکہ ایٹمی معاہدے کی کوئی قدر و قیمت نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے نزدیک پابندیاں ختم کئے بغیر مشترکہ ایٹمی معاہدے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ کے سیاسی معاون سید عباس عراقچی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں ختم کئے بغیر ، مشترکہ ایٹمی معاہدے کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔

سید عباس عراقچي نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں جو چيز اہم ہے وہ معاہدے پر عمل درآمد ہے اگر مشترکہ ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران کے خلاف عائد پابندیاں عملی طور پر ختم کی جائيں تو معاہدہ اپنی جگہ پر باقی رہےگا لیکن اگر ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ختم نہ کی گئيں تو پھر اس معاہدہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کا مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنے کامطلب یہ ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا عملی طور پر خاتمہ ہوجائے اور اس معاہدے سے ایرانی عوام کو فائدہ پہنچے اگر معاہدے کے مطابق ایران عوام کو اقتصادی فائدہ نہیں پہنچتا تو پھر اس معاہدے کی ایرانی عوام کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں۔

سید عباس عراقچي نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایران کے خلاف تمام اقتصادی پابندیاں ختم ہونی چاہیں تھیں لیکن امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اگر امریکہ اب مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنا چاہتا ہے تو اسے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے اور ایران کے خلاف عائد تمام پابندیوں کو ختم کردینا چاہیے۔

عباس عراقچي نے کہا کہ امریکہ کا مشترکہ ایٹمی معاہدے میں پابندیاں ختم کئے بغیر واپس آنے کا کوئی فائدہ نہیں ، مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنے سے پہلے اسے ایران کے خلاف عائد تمام پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے اور عملی طور پر واضح کرنا چاہیے کہ وہ مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرکے ثابت کردیا ہے کہ امریکی حکام قابل اعتماد نہیں اور امریکہ کو اعتماد بحال کرنے کے سلسلے میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔

News Code 1905245

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =