اسلام آباد میں احتجاجی ملازمین اور پولیس کے درمیان جھڑپ / شاہراہِ دستور میدانِ جنگ بن گئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے احتجاجی سرکاری ملازمین کو سیکریٹریٹ میں روک کر محدود کرنے کی کوشش کی گئی جس سے شاہراہِ دستور میدانِ جنگ بن گئی۔ شاہراہِ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ سمیت متعدد اہم سرکاری عمارات واقع ہیں۔ پولیس کی جانب سے 2 درجن وفاقی ملازمین کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے 50 کے قریب ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمے کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔

مظاہرین نے سیکریٹریٹ کے دروازے کھول کر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنا شروع کر دیا، جس پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی۔

ملازمین نے آنسو گیس شیلنگ کے جواب میں پولیس پر پتھراؤ کیا اور نعرے بازی بھی کی، پولیس کی جانب سے دھرنے کے متعدد شرکاء کو گرفتار کیا گیا۔

رینجرز نے مداخلت کر کے سرکاری ملازمین کو دوبارہ سیکریٹریٹ میں دھکیل کر سیکریٹریٹ کے دروازے بند کر دیئے۔

News Code 1905207

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 9 =