شام میں داعش دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش مل گئی

شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 2015 میں داعش دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سانا کے حوالےسےنقل کیا ہے کہ شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 2015 میں داعش دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق شام کی حکومت نے آثار قدیمہ کے عالمی شہرت یافتہ 82 سالہ ماہر خالد الاسد کی لاش ملنے کا دعویٰ کیا ہے، نوادرات کا ٹھکانہ نہ بتانے کی پاداش میں ماہر آثار قدیمہ کا 2015 میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے سرقلم کردیا تھا۔

ماہر آثار قدیمہ خالد الاسد تاریخی شہر پالمیرا کی حفاظت کی کوشش کر رہے تھے جب کہ داعش اُن سے قدیم اور قیمتی نوادرات کا مقام معلوم کرنا چاہ رہے تھے اور انکار پر قتل کردیا۔

اس حوالے سے سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہر آثار قدیمہ کی لاش پالمیرا کے مشرق میں واقع کلاؤل سے دریافت ہونے والی تین لاشوں میں سے ایک ہے۔

اس مقام سے ملنے والی تینوں لاشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک لاش خالد الاسد کی معلوم ہوتی ہے۔

ماہر آثار قدیمہ خالد الاسد نے اپنی زندگی کے 50 سال سے زیادہ دمشق کے شمال مشرق میں واقع صحرائے صحرا میں ایک نخلستان میں واقع تاریخی شہر پالمیرا کے لئے وقف کئے تھے۔ وہ 2003 میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم داعش کے حملے تک اسی مقام پر موجود رہے تھے۔

News Code 1905180

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 6 =