بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے سلسلے میں اپنی کوششوں کو مزيد تیز کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے سلسلے میں اپنی کوششوں کو مزيد تیز کردیا ہے۔  مقبوضہ جموں و کشمیر رقبہ کے لحاظ سے تین حصوں پر مشتمل ہے جس میں 58% رَقبہ لَداخ، 26%جموں اور 16%وادی کشمیر کا ہے۔ ریاست کی  55 % آبادی مقبوضہ وادی کشمیر، 43% جموں اور 2% لَداخ میں رہتی ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کا 68% حصہ مسلمانوں، 28% ہندوؤں، اور 4% سِکھ اوربُدھ مت کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ مودی سرکار کا مشن آبادی کے اس تناسب کو تیزی سے تبدیل کرنا اور مسلمانوں کو اقلیت بنانا ہے۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اگلی مردم شماری 2021ء سے 2026ء تک ملتوی کردی ہے۔ اسی عرصہ میں آبادی کا تناسب بدلنے کی تیز تر کوششیں کی جائیں گی اور کشمیر کے مُسلم تشخص کو مسخ کرنے کی غرض سے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ متنازعہ علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا جنیوا کنونشن4کے آرٹیکل 49کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت کے اس منصوبے کو اندرونی اور بیرونی مذمت کا سامنا ہے۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس عمل کی مذمت کی اور کشمیر میں ممکنہ ریفرنڈم کا نتیجہ تبدیل کرنے کی سازش قرار دے دیا۔

مودی نے منصوبے کی تکمیل کے لیے کشمیر میں بیرونی ہندوؤں کی آباد کاری کا ریلہ چھوڑ دیا اور نئے ڈومیسائل لاء کے تحت ساڑھے 18 لاکھ سے زائد لوگوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا گیا جبکہ لاکھوں مزید غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ بھی جا ری ہے۔ اس سلسلے میں گورکھا کمیونٹی کے 6600 ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی ڈومیسائل دے دیا گیا۔

اب ڈومیسائل جاری کرنے کا اختیار تحصیلدار کو حاصل ہے اور ہزاروں باہر سے آئے مزدوربھی ڈومیسائل حاصل کر سکیں گے۔ اس حوالے سے 10 ہزار سے زائد مزدوروں کو بہار سے کشمیر میں منتقل کر دیا گیا۔ 4-5 لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔

 آرٹیکل 35-A کے خاتمے کے بعد اب غیر کشمیریوں پر مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید نے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اونے پونے داموں جائیداد خریدنے کی دوڑ میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج بھی شامل ہے۔

سیکیورٹی فورسز کیلئے اب زمین حاصل کرنے کیلئے خصوصی سر ٹیفیکیٹ (NOC) کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ صرف بارہ مُولا میں فوجی کیمپ کے لیے 129کنال اراضی ہتھیا نے کا عمل جاری ہے۔

ایک تو بھارتی افواج پہلے ہی کشمیر میں 53,353 ہیکٹرز اراضی پر قابض ہیں اور اب دہلی سرکار نے مسلح افواج کو سٹریٹجک ایریاز کے قیام کی اجازت دے دی ہے جو سینکڑوں ایکڑز پر محیط ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ کنٹرول آف بلڈنگ آپریشن ایکٹ 1988ء اور جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ 1970ء تبدیل کر کے مسلح افواج اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کو تعمیرات کی کُھلی ڈھیل دے دی ہے۔ اسرائیل کی طرز پر پورے مقبوضہ کشمیر کو گیریژن سٹی بنانے کی سازش کھل کر سامنے آگئی۔

محبوبہ مُفتی نے بھی جنوری 2018ء میں بھارتی فوج کی قبضہ گیری کے خلاف آواز اُٹھائی تھی کہ زمین کی خریداری کی اجازت دے کر مقبوضہ کشمیر پر ہندو سر مایہ داروں کے قبضے کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔

مودی سرکار نے 20 ہزار کنال زمین کوڑیوں کے دام ہندو سرمایہ داروں کیلئے قبضہ میں لے لی ہے اور مقامی لوگوں کی زمینیں ضبط اور نیلام کی جا رہی ہیں۔ جموں و کشمیر گلوبل انوسٹرز سمٹ میں 43 کمپنیوں کی 137000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری دراصل مقبوضہ وادی کی اراضی اور وسائل کے استحصال کا منصوبہ ہے۔

بھارتی حکومت 2 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے بھی خرید نے جا رہی ہے ان میں 15000 ایکڑ دریاؤں سے ملحقہ اراضی شامل ہے۔

News Code 1905115

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 3 =