امریکی انتظامیہ افغان امن معاہدے کی خۂاف ورزی کررہی ہے

افغان طالبان کے ترجمان نے امریکہ پر افغانستان میں شہریوں پر بمباری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکہ پر افغانستان میں شہریوں پر بمباری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دوحہ میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی فورسز دوحہ امن معاہدے  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر بمباری کر رہی ہیں جس سے بین الاافغان مذاکرات بھی کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

ادھر پینٹاگون بھی  کا کہنا ہے کہ اس امن معاہدے کے تحت طالبان افغانستان میں تشدد میں کمی لانے میں ناکام رہے ہیں جو کہ بنیادی معاہدے کی بنیادی شق تھی، طالبان کے اس عمل سے وسطی ایشیائی ملک سے امریکی افواج کے انخلا پر سوالیہ نشانات ابھر رہے ہیں۔

امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ امن معاہدے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس 29 فروری کو دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت امریکہ نے مئی تک افغانستان سے اپنے فوجی واپس بلوانے تھے تاہم اس کے لیے طالبان کو تشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی لانا ضروری تھا۔

News Code 1905040

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 10 =