امریکہ کومشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آنا چاہیے/ دوطرفہ مذاکرات کی ضرورت نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے تحقیقاتی سینٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ کومشترکہ ایٹمی معاہدے کے گروپ 1+5 میں واپس آنا چاہیے اور گروپ 1+5 میں ہی بات چيت کرنی چاہیے دوطرفہ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے تحقیقاتی سینٹر کے سربراہ علی رضا زاکانی  نے کہا ہے کہ امریکہ کومشترکہ ایٹمی معاہدے کے گروپ 1+5 میں واپس آنا چاہیے اور گروپ 1+5 میں ہی بات چيت کرنی چاہیے دوطرفہ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کا حل ملک کے اندر موجود ہے اور ہمیں ملک کی اندرونی ظرفیتوں اور توانائیوں کے ذریعہ مشکلات پر قابو پانا چاہیے۔

علی رضا زاکانی نے کہا کہ ایران نے سن ساٹھ، ستر، اسی اور نوے شمسی کی دہائیوں میں امریکہ کے ساتھ  نادر مذاکرات انجام دیئے لیکن امریکہ کی طرف سے جھوٹ، فریب، لاپرواہی اور خیانت کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں ملا اور امریکہ کو مشترکہ ایٹمی معاہدے میں واپس آکراپنی غلطیوں کی تلافی کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کو ٹرمپ جیسےموذی انسان سے نجات مل گئی لیکن ابھی ہمیں امریکہ کی  سامراجی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ علی رضا زاکانی نے کہا کہ ایران پر امریکہ کی زيادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ناکام ہوگئی اور امریکہ کی نئی حکومت کو ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کے مطابق اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو گروپ 1+5 کے دائرے میں گفتگو کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ دوطرفہ گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

News Code 1905037

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =