پاکستان کی معشیت میں سب سے بڑا چیلنج پاور سیکٹرہے

پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معشیت میں سب سے بڑا چیلنج پاور سیکٹر ہے، پاور سیکٹر میں بڑے بڑے فیصلے ہوچکے اور مزید ہونے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معشیت میں سب سے بڑا چیلنج پاور سیکٹر ہے، پاور سیکٹر میں بڑے بڑے فیصلے ہوچکے اور مزید ہونے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ رواں سال چین کے صدر پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں، سی پیک کی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے 70 فیصد منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، سی پیک کے 30 فیصد منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاک چین دسویں جے سی سی کے اجلاس کی تیاری ہو رہی ہے، ایم ایل ون منصوبہ جے سی سی کے اجلاس میں زیر غور آئے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دو پاور منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے، سی پیک کے تحت اقتصادی رابطے کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ چین کی دو ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور دو ٹریلین ڈالر کی درآمدات ہیں، پاکستان کو چین کی درآمدات میں اپنا حصہ کیسے لینا ہے، حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔

اسد عمر نے کہا کہ اگر ایک فی صد بھی ہم چینی درآمدات کا حصہ لیں تو 20 ارب ڈالر بنتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معشیت میں سب سے بڑا چیلنج پاور سیکٹر ہے، پاور سیکٹر میں بڑے بڑے فیصلے ہوچکے اور مزید ہونے ہیں۔

News Code 1905018

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 0 =