بھارت میں کسانوں کا احتجاج ملک بھر میں بغاوت کی شکل اختیار کرسکتا ہے

بھارت میں کسانوں کی حالیہ تحریک ملک بھر میں بغاوت کی شکل اختیار کرکے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے  امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں کسانوں کی حالیہ تحریک بغاوت کی شکل اختیار کرکے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

منگل کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعہ پر کسانوں کی احتجاجی ریلی کے بعد دہلی کے لال قلعہ پر دھاوا بول کر سکھ مذہب اور کسان تحریک کے جھنڈے لہرانے کے واقعات نے پوری دنیا میں مودی سرکار کی غلط  پالیسیوں  کی جانب متوجہ کرلیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی کے مطابق  2019 میں دوسری بار برسر اقتدار آنے کے بعد نریندر مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں داخلی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے پہلے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا یک طرفہ اقدام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر مسائل سے دو چار کیا۔

اسی برس مودی سرکار نے شہریت کا متنازع قانون بنایا جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس قانون کے خلاف بھی بھارت میں احتجاجی لہر پیدا ہوئی اور دہلی کے شاہین باغ میں طویل عرصے تک مسلمان مردوخواتین کا دھرنا جاری رہا۔

 مودی حکومت کورونا وائرس کے معاشی و سماجی اثرات کا مقابلہ کرنے میں بھی ناکام رہی اور متنازع زرعی قوانین کی منظوری کے بعد مودی حکومت نے بھارت میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو مہینوں سے زائد عرصے سے وفاقی دارالحکومت کا گھیراؤ کررکھا ہے اور 26 جنوری کو لال قلعے کی جانب مارچ کرنے کااعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز ہونے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے  ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے یہ احتجاج ایک بغاوت کی صورت میں پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

News Code 1904994

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 12 =