سعودی عرب اور پاکستان کے خوشگوار  تعلقات کی بہار  پر خزاں کیسے آگئی؟

سعودی عرب اور پاکستان کے خوشگوار تعلقات کی بہار میں خزاں اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے دورے کے دوران ملاقات سے انکار کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے خوشگوار تعلقات کی بہار میں خزاں اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے دورے کے دوران ملاقات سے انکار کردیا۔

البتہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری میں بھارت نے بھی اہم کردار ادا کیا جبکہ سعودی عرب کا جھکاؤ بھی پاکستان کی نسبت بھارت کی طرف  زیادہ رہا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے بہاری اور خوشگوار تعلقات میں خزاں وقت اور تصور سے پہلے آگئي کیونکہ سعودی عرب نے پاکستان کی مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو دنیائے اسلام کے سامنے پیش کرنے  اور اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنادیا ۔

حالانکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اورذرائع ابلاغ نے پاکستانی وزیر اعظم کے  اس سفر کو سعودی عرب سے مالی اور اقتصادی تعاون حاصل کرنے سے تعبیر کیا تھا۔ اس سفر کے بعد عمران خان نے بہت جلد ہی سعودی عرب کا دوسرا دورہ کیا اور اس سفر میں انھوں نے سعودی عرب میں ایک اقتصادی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی جبکہ اس کانفرنس میں بہت سے اسلامی ممالک کے سربراہان نے اس بنا پر شرکت نہیں کی کیونکہ سعودی عرب نے ترکی میں سعودی خبرنگار جمال خاشقجی کو بہیمانہ اور بزدلانہ انداز میں قتل کیا تھا ۔ اس کانفرنس میں محدود مہمانوں کے ساتھ ایک مہمان عمران خان بھی تھے۔

اس کے بعد سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں اس کا پرتپاک استقبال کیا گيا اور اس سفر میں سعودی ولیعہد نے پاکستان کے ساتھ  20 ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی معاہدوں  پر دستخط کئے اور تمام شرائط اس بات کا مظہر تھے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہورہے ہیں، لیکن  پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورہ سعودی عرب کے دوران اس وقت حالات نے کروٹ بدلی جب سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے سے انکار کردیا۔ کشمیر کے مسئلہ پر سعودی عرب کی عدم توجہ نے بھی پاکستان کی چيخیں نکال دیں جبکہ پاکستان کی کوشش تھی کہ وہ بھارت کی طرف سے کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دنیائے اسلام کے سامنے  پیش کرے لیکن پاکستان کی اس خواہش اور کوشش پر سعودی عرب نے پانی پھیر دیا اور اس سلسلے میں سعودی عرب نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا بلکہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سعودی عرب کے اعلی ترین ایوارڈ سے بھی نوازا گيا اور بھارت کے ساتھ سعودی عرب نے 40 ارب ڈالر کے معاہدوں پر بھی دستخط کردیئے۔

کشمیر کے مسئلہ پر سعودی عرب کے رویہ نے پاکستان میں عدم اعتماد کی فضائی پیدا کی اور پاکستان کے بعض اعلی حکام نے سعودی عرب کی کشمیر کے مسئلہ پر خاموشی کو شدید  تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

ادھر سعودی عرب نے ملائشیا میں اسلامی کانفرنس کے سربراہی اجلاس کی مخالفت کی اس اجلاس کو ملائشیا، ترکی اور پاکستان کے وزیر اعظم نے مشترکہ طور پر بلایا تھا لیکن سعودی عرب نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اس اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا ۔ سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان کسی ایسے اسلامی  بلاک میں شرکت کرے جس کا سعودی عرب مخالف ہے۔ ملائشیا میں ہونے والے اسلامی سربراہی اجلاس میں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کی بھر پور مذمت کی گئی ۔ اس اجلاس میں ملائشیا، ترکی ، ایران اور قطر نے بھر پور شرکت کی۔ پاکستان کی ترکی اور ایران کے ساتھ قربت بھی سعودی عرب کو پسند نہیں ، سعودی عرب امریکہ کی طرح دوسرے ممالک کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کی کچھ مالی مدد بھی کی جسے تعلقات کی خرابی کے بعد فوری طلب بھی کرلیا اور پاکستان نے چین سے ایک ارب ڈالر قرضہ لیکر سعودی عرب کو اس کا قرضہ واپس کردیا۔ بہر حال پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ مالی اور اقتصادی  معاہدوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور پاکستان ترکی، ایران اور قطر کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دے رہا ہے اگر چہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ  تعلقات میں کشیدگی کا خواہاں بھی نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے پاکستانی فوج کے سربراہ کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرکے ثابت کردیا کہ اس کی نظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

News Code 1904954

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 9 =