پاکستان میں ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ

پاکستانی حکومت نے ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ  کیا ہے پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے  کہ سابقہ حکومت نے بارودی سرنگیں لگائی جس کا مطلب لازمی ادائیگیاں ہیں، بجلی خرچ کریں یا نہ کریں ادائیگی کرنا ہوتی تھی، 2019 تک 227 ارب کی ادائیگی کرنا تھی جب کہ 2023 تک یہ لازمی ادائیگیاں 1455 ارب روپے ہو جائیں گی، مسلم لیگ (ن) نے دانستہ طور پر بدنیتی کے تحت یہ سارے معاہدے کیے اور کارخانے لگائے، یہ صورتحال ہمیں ورثے میں ملی۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کورونا کے دور میں آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود 473 ارب کی سبسڈی دی گئی، مشکل ترین دور میں پاور سیکٹر کو سبسڈی دی گئی تاہم اب ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے جارہے ہیں، اضافے کے لیے نیپرا میں درخواست دے رہے ہیں جب کہ ن لیگ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے یہ اضافہ کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ ہی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 6 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا تھا، نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، جس کے تحت اکتوبرکے لئے 29 پیسے اورنومبر کے لئے76 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔

News Code 1904917

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 4 =