بھارتی کسانوں کا احتجاج مذہبی نہیں بلکہ ان کا قانونی حق ہے

بھارت میں احتجاج کرنے والے کسانوں سے متعلق سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی مرکزشری اکال تخت صاحب کے جتھہ دار گیانی ہرپریت سنگھ نے کہا ہے احتجاج کا معاملہ مذہبی نہیں ہے اورنہ ہی یہ سکھ رسم ورواج کے خلاف ہے۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں احتجاج کرنے والے کسانوں سے متعلق سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی مرکزشری اکال تخت صاحب کے جتھہ دار گیانی ہرپریت سنگھ نے کہا ہے احتجاج کا معاملہ مذہبی نہیں ہے اورنہ ہی یہ سکھ رسم ورواج کے خلاف ہے، یہ ایک قانونی معاملہ ہے جسے کسان رہنماؤں اور حکومت کو مل کر حل کرنا ہوگا۔ شری اکال تخت صاحب کے جتھہ دار گیانی ہرپریت سنگھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے ہزاروں کسان زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، یہ سکھ مذہب اوررسم ورواج سے جڑامسلہ نہیں ہے ۔ کسانوں میں صرف سکھ ہی نہیں دیگرمذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں۔ شری اکال تخت اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ہے۔ تاہم ہم یہ ضرورچاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد حل ہوناچاہیے۔ احتجاج کرنیوالے کسانوں کوسہولتیں دی جائیں اوران کی بات سنی جائے۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ امن اورشانتی بنائے رکھیں۔ پوری دنیا ان کے احتجاج کودیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی کسان گزشتہ پانچ ماہ سے زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بھارتی کسانوں نے اگست 2020 میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا تاہم 15 ستمبر کو اس میں تیزی آگئی۔ پنجاب، ہریانہ اورراجستھان سمیت مختلف ریاستوں میں کسان تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا۔ اس وقت 50 سے زائد کسان تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں۔ کسانوں نے احتجاج کے دوران ریل روکو، دلی چلو اورریاستی بارڈربند کرنے جیسے اقدامات اٹھائے۔ احتجاج کے دوران اب تک 41 سے زائد کسانوں کی اموات ہوچکی ہیں جن میں 4 کسانوں نے خودکشی کی تھی۔

News Code 1904755

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 0 =