یورپی ممالک کو شہید قاسم سلیمانی کا احسان مند اور مدیون ہونا چاہیے

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بین الاقوامی امور کے مشیر اور شہید سلیمانی کی پہلی برسی کی انتظامی کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو شہید قاسم سلیمانی کا احسان مند اور مدیون ہونا چاہیے۔اگر شہید سلیمانی کی فداکاری نہ ہوتی تو آج یورپ اور امریکہ میں جگہ جگہ داعشیوں کے حملے ہوتے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بین الاقوامی امور کے مشیر اور شہید سلیمانی کی پہلی برسی کی انتظامی کمیٹی کے ترجمان حسین امیر عبداللہیان  نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو شہید قاسم سلیمانی کا احسان مند اور مدیون ہونا چاہیے۔اگر شہید سلیمانی کی فداکاری نہ ہوتی تو آج یورپ اور امریکہ میں جگہ جگہ داعشیوں کے حملے ہوتے۔

امیر عبدالہیان نے کورونا وائرس سے متعلق قومی کمیٹی کے ساتھ شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے متعلق گفتگو ، صلاح و مشورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے شہید سلیمانی کی برسی کے  مراسم کا بڑا حصہ آن لائن منعقد ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے تمام پروگرام عوامی سطح پر خود جوش منعقد ہوں گے۔ جبکہ جمعہ کے دن بعض ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی میں شہید سلیمانی کی پہلی برسی کی تقریب طبی پروٹوکول کی رعایت کے ساتھ منعقد ہوگي۔ جس میں شہید سلیمانی کی تحریری یادداشت کی رونمائي کی جائےگي اور اس تحریر کا دنیا کی 7 زبانوں میں ترجمہ کیا جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کے بہیمانہ اور بزدلانہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ کی فائل مکمل ہوچکی ہے اور شہید قاسم سلیمانی کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے  والوں کو سزا دلوانے کی جد و جہد جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ شہید سلیمانی کی قربانیوں اور فداکاریوں کو خطے کے عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

News Code 1904602

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =