سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن کو 5 سال اور 8 ماہ قید کی سزا

سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن لجين الهذلول کو 5 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن لجين الهذلول کو 5 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے خواتین کے حقوق کی ممتاز کارکن 31 سالہ لجين الهذلول کو 5 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذکورہ خاتون مملکت کے تشخص کو نقصان پہنچانے اور اس میں تبدیلی کے لئے احتجاج کرنے، غیر ملکی ایجنڈے کی پیروی کرنے اور انٹرنیٹ کے ذریعے عوام کو اکسانے جیسے جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں۔

31 سالہ خاتون 30 دنوں کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتی ہیں تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے تحریری متن کا انتظار ہے جس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جدہ میں پیدا ہونے والی لجين الهذلول کو 2018 میں درجن بھر دیگر خواتین کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔ عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی عدالتیں ولیعہد محمد بن سلمان کی طرف سے سعودی عرب کے قوانین میں تبدیلی کرنے اور سعودی عرب کو مغربی ثقافت کی طرف دھکیلنے کے معاملے پر خاموش ہیں۔

News Code 1904578

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 2 =