امریکی صدر نے عراقی شہریوں کے قاتلوں کو معاف کردیا

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے عراق میں قتل عام کرنے والی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے چار گارڈز کی سزا کو معاف کردیا ہے۔

مہر خبـررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے عراق میں قتل عام کرنے والی بلیک واٹر کمپنی کے چار گارڈز کی سزا کو معاف کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز جاری کیے گئے صدارتی معافی ناموں میں چار ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جنھیں 2007میں 14 عراقی شہریوں کا قتل عام کرنے اور دیگر 17 کو زخمی کرنے پر بارہ برس سے لے کر عمر قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق نجی سکیورٹٰی کنٹریکٹر بلیک واٹر سے وابستہ ان گارڈز نے 2007 میں بغداد میں گھات لگا کر نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی اور دھماکہ خیز مواد کا بھی استعمال کیا۔

شہریوں کے قتل عام میں ملوث ڈسٹن ہیئرڈ، ایون لبرٹی ، نکولس سلیٹن اور پال سلو کو 12 سال سے عمر قید تک کی سزائی دی گئی تھیں جسے صدر ٹرمپ کے جاری کردہ حکم نامے کے ذریعے معاف کردیا گیا ہے۔

اس واقعے کے متاثرین نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے  دفتر برائے انسانی حقوق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قتل عام کی اس سفاکانہ واردات میں ملوث افراد کو صدارتی معافی دینے سے آئندہ بھی ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

قتل عام کے خلاف قانونی جنگ لڑنے والے چھ عراقی خاندانوں کے وکیل پال ڈکنسن کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کے خاندانہ کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے یہ  فیصلہ انصاف سے مایوسی کا پیغام ہے۔ ایف بی آئی نے اس مقدمے میں کثیر سرمایہ لگایا اور محنت کی جو سب اکارت گیا۔ دوسری جانب اس فیصلے سے عراقی شہریوں کو بھی بہت برا پیغام گیا ہے۔

ڈکنسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے دنیا میں امریکہ کے نظام انصاف کی بے توقیری ہوگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دی جانے والی سزاؤں کا بھی کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے دو روز قبل 15 افراد کو بطور صدر حاصل خصوصی آئینی اختیارات کے تحت مختلف جرائم کی سزاؤں میں صدارتی معافی جاری کی ہے۔ معافی حاصل کرنے میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ پال مینفورٹ، مشیر راجر اسٹون اور سمدھی چارلس کوشنر کے نام بھی شامل ہیں۔

News Code 1904523

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 7 =