ترکی کے خلاف امریکی پابندیاں ترکی کی خود مختاری کے خلاف ہیں

امریکہ کے اتحادی ترک صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی اقتصادی پابندیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی پابندیاں خود مختاری پر حملہ ہیں لیکن ایسے فیصلوں سے ترکی کی ترقی نہیں رکے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے اتحادی ترک صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی اقتصادی پابندیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی پابندیاں خود مختاری پر حملہ ہیں لیکن ایسے فیصلوں سے ترکی کی ترقی نہیں رکے گی۔

اطلاعات کے مطابق ترک صدر اردوغان نے  انقرہ میں ایک ہائی وے کے افتتاح کے موقعہ پر امریکی پابندیوں کے اعلان ہونے کے بعد پہلی مرتبہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ روس سے ایس 400 میزائلز کی خریداری محض بہانہ ہے۔امریکہ نے  دراصل دفاعی شعبہ میں ترکی کی ترقی روکنے کے لیے یہ اقدام کیا۔امریکہ دفاعی ساز و سامان کے لیے ترکی کا امریکہ پر انحصار کم نہیں ہونے دینا چاہتے تبھی روس سے دفاعی سودے پر بلاجواز پابندیاں عائد کی گئیں۔

طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ترکی پر پابندیوں کے لیے  2017 میں منظور کردہ اپنے ایک ایسے قانون کا استعمال کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی نیٹو اتحادی کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسے حالات میں ہمارے نیٹو اتحادی ہونے کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔

صدر اردوان نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ترکی کی دفاعی ترقی روک کر اسے اپنا دست نگر بنانا ہے ، امریکا کا یہ فیصلہ ترکی کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ ترکی اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ ایسی پابندیاں اس کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ اب ہم اپنی دفاعی صنعت کی ترقی کے لیے دگنا کام کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے پیر کو ترکی کے دفاعی سودے کرنے والے ادارے اور اس کے سربراہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ترکی کے اس ادارے کا امریکہ سے مالیاتی رابطہ منقطع کردیا گیا ہے اور امریکی  ہتھیاروں تک اس کی رسائی ختم کردی گئی ہے۔

News Code 1904402

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 13 =