مراکش نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں اعلان کیا ہے کہ عرب ملک مراکش نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی نے اسپوٹنک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں اعلان کیا ہے کہ عرب ملک مراکش نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ہمارے دو بڑے دوستوں ملکوں اسرائیل اور مراکش نے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں اتفاق کرلیا ہے اور مشرق وسطی میں امن کے قیام کے سلسلے میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدرٹرمپ  اور مراکش کے بادشاہ محمد ہشتم میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی گئی۔

وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے مغربی صحرا پر مراکش کے دعوے کو قبول کرلیا ہے۔ اس علاقے میں مراکش اور الجیریا کے حمایت یافتہ پولیساریو محاذ کے مابین دہائیوں سے جھڑپیں جاری تھیں۔ پولیساریو اس خطے کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں تاہم اب امریکہ نے اس علاقے پر مراکش کا اختیار تسلیم کرلیا ہے۔

رواں برس اگست کے بعد مراکش چوتھا عرب ملک کے ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنا کا معاہدہ کیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان، اسرائیل سے تعلقات کے معاہدے طے کرچکے ہیں جبکہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں مناسب وقت کا انتظار کررہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت مراکش اسرائیل سے باضابطہ اور مکمل سفارتی تعلقات قائم کرے گا اور تمام اسرائیلی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دے گا۔ ادھر فلسطینیوں نے مراکش کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے خیانت اور غداری قراردیا ہے۔

News Code 1904316

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =