بھارت میں پولیس نے ایک مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی کے ساتھ شادی رکوا دی

بھارت میں پولیس نے لو جہاد کا بہانہ بنا کر ایک مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی کے ساتھ شادی پر دھاوا بول کر زبردستی رکوا دی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں پولیس نے لو جہاد کا بہانہ بنا کر ایک مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی کے ساتھ شادی پر دھاوا بول کر زبردستی رکوا دی۔ اطلاعات کے مطابق یہ شادی بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنو میں لڑکے اور لڑکی کے والدین کی رضامندی سے ہو رہی تھی لیکن پولیس نے شادی کی تقریب پر دھاوا بول کر شادی روک دی۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ ادتیہ ناتھ کی طرف سے انتہاءپسند ہندو نوجوانوں پر مشتمل ایک تنظیم بنائی گئی ہے جس کا نام " ہندو یووا واہنی" رکھا گیا ہے۔ پولیس نے یہ شادی اسی تنظیم کے کارندوں کے کہنے پر رکوائی۔ ان کارندوں کا کہنا تھا کہ یہ شادی  لو جہاد کا شاخسانہ ہے۔ پولیس کی طرف سے لڑکے اور لڑکی کو شادی سے پہلے لکھنؤ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لینے کا حکم دے دیااور کہا کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر ایک مسلمان لڑکا ہندو لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔

پیرا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او تریلوکی سنگھ کا کہنا تھا کہ " لڑکے لڑکی کی شادی " ہندو رسم و رواج کے مطابق ہونے جا رہی تھی اور لڑکے لڑکی کے علاوہ دونوں کے گھر والے بھی اس پر رضامند تھے تاہم ہندو یووا واہنی کے نمائندوں کو اس پر اعتراض تھا۔ جس کی وجہ سے ہم نے شادی رکوا دی ہے۔

News Code 1904235

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =