حضرت امام حسین علیہ السلام  کی زیارت حج ، عمرہ اور جہاد کے برابر

حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کی فضلیت احاطہ بیان سے باہر ہے اور بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ شہید نینوا کی زیارت حج ، عمرہ اور جہاد کے برابر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے مفاتیح الجنان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کی فضلیت احاطہ بیان سے باہر ہے اور بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ شہید نینوا کی زیارت حج‘ عمرہ اور جہاد کے برابر ہے۔ بلکہ اس سے بھی کئی درجے افضل ہے حضرت امام حسین (ع) کی زیارت مغفرت کا سبب، حساب و کتاب میں آسانی، درجات کی بلندی، قبولیت دعا ، طول عمر‘ حفظ جان و مال‘ روزی میں فراوانی‘ حاجات کے پورا ہونے اور غم و اندیشے کے دور ہونے کا موجب بنتی ہے اسی طرح آپ کی زیارت کا ترک کرنا دین و ایمان میں نقص اور پیمغبر اسلام حضرت محمد (ص)  کے حقوق میں سے ایک انتہائی اہم حق کے چھوڑ دینے کا سبب ہے۔ حضرت امام حسین (ع) کے زائر کا کمترین ثواب یہ ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی جان و مال کی حفاظت اس وقت تک فرماتا ہے جب تک وہ اپنے اہل خانہ میں واپس نہیں آجاتا اور قیامت میں تو خدائے تعالیٰ دنیا کی نسبت اس کی زیادہ حفاظت فرمائے گا۔ بہت سی روایتوں میں مذکور ہے کہ آپ کی زیارت غموں کو دور کرتی ہے جان کنی کی سختی اورقبر کی ہولناکی سے بچاتی ہے زیارت کرنے میں جو مال زائر خرچ کرتا ہے اس کے ہر درہم کے بدلے میں ایک ہزار بلکہ دس ہزار درہم لکھے جاتے ہیں۔ جب زائر آپ کے روضہ مبارک کی طرف روانہ ہوتا ہے تو چار ہزار فرشتے اس کے استقبال کو بڑھتے ہیں اور جب وہ واپس جاتا ہے تو اتنے ہی فرشتے اسے رخصت کرنے آتے ہیں۔ تمام پیغمبر اوصیا‘ ائمہ طاہرین اور ملائکہ امام حسین (ع)  کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور آپ کے زائروں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت کرنے میں انہیں عرفات والوں پر اولیت دیتا ہے قیامت کے دن ان کی عزت وتکریم کو دیکھ کر ہر شخص یہ تمنا کرے گا کہ اے کاش میں بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین میں شامل ہوتا۔

News Code 1904221

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 3 =