اسرائيل اور امارات کے درمیان دوستی جلد ہی پگھلنے لگی

اسرائيل نے تل ابیب ايئر پورٹ پر 2 اماراتی شہریوں کو روک دیا ہے جبکہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات اور فضائی رابطہ کو کچھ ہی دن گزرے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب 48 کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات اور فضائی رابطہ کو کچھ ہی دن گزرے ہیں اور اس کم مدت میں دونوں کے درمیان اختلاف اور خلیج کا آغاز ہوگیا ہے۔

اسرائیل نے امارات کے مسافر طیارے کے دو مسافروں کو تل ابیب ایئر پورٹ پر اترنے سے روک دیا جبکہ جوابی کارروائی ميں متحدہ عرب امارات نے 10 صہیونیوں کو دبئی کے سفر کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ امارات کے شہری اسرائیلی کمپنی کی دعوت پر تل ابیب پہنچے تھے۔ جنیھں تل ابیب ایئر پورٹ پر اترنے سے روک دیا گیا اور پہلی پرواز کے ذریعہ انھیں واپس امارات بھیج دیا گیا۔ امارات کی فلائی کمپنی نے گذشتہ ہفتہ جمعرات سے اسرائیل کے لئے براہ راست پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ امارات نے ایک طرف اسرائیل کے لئے اپنے دورازے کھول دیئے ہیں اوردوسری طرف اس نے مسلمانوں کو ویزا دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔ با خـبر ذرائع کے مطابق اسرائيل بتدریج امارات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لےلے گا ، کیونکہ اسے امریکہ کی پشتپناہی حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے متحدہ عرب امارات نے فلسطین ، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت اور غداری کا ارتکاب کیا ہے۔

News Code 1904144

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =