بھارتی حکومت نے ہندو لڑکیوں کے ساتھ  مسلمان لڑکوں کی شادی پر پابندی عائد کردی

بھارتی ریاست اُتر پردیش میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے ہندو لڑکیوں کو تبدیلی مذہب کے حق سے محروم کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ شادی پر قدغن لگانے کے لیے قانون منظور کرلیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست اُتر پردیش میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے ہندو لڑکیوں کو تبدیلی مذہب کے حق سے محروم کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ شادی پر قدغن لگانے کے لیے قانون منظور کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کی کابینہ نے بظاہر شادی کے لیے تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کے لیے ایک قانون منظور کرلیا ہے جس میں 10 سال تک قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

حال ہی میں بھارت کی جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں تبدیلی مذہب کے حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں اتر پردیش کے علاوہ ہریانہ اور مدھیہ پردیش بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے " لو جہاد " کے نام سے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کررکھا ہے جس کے مطابق مسلمان شادی کرنے کی آڑ میں ہندو لڑکیوں کی تبدیلیٔ مذہب کرواتے ہیں۔

News Code 1904080

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 10 =