پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے امریکہ کا شدید دباؤ

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے اورعرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کے بعد اس دباؤ میں مزيد اضافہ ہوگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے اورعرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کے بعد اس دباؤ میں مزيد اضافہ ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک ہم ایسا نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد فلسطین کے حوالے سے بانی پاکستان محمد علی جناح کے نقش قدم پر چلتا رہے گا یعنی جب تک فلسطینیوں کو انصاف نہیں ملےگا، پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کرےگا ۔

واضح رہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے امارات اور بحرین کے اس اقدام کو دنیائے اسلام اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ خیانت اور غداری قراردیا جارہا ہے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں تعلقات کو معمول پرلانے کا اعلان کیا تھا اور حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کردیا۔

اس کے بعد بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اورتعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین تیسرے اور چوتھے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ  سفارتی تعلقات قائم کیے جبکہ اس سے قبل مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے تھے۔ عرب ممالک کے حکمرانوں کی غداری اور خیانت کی وجہ سے فلسطینی مسلمانوں کو آج تک اسرائيل کے بہیمانہ ظلم و ستم کا سامنا ہے۔

News Code 1903955

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 9 =