کابل یونیورسٹی پر سفاکانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار

افغانستان کی فورسز نے کابل یونیورسٹی پر ہونے والے سفاکانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی افغان ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کی فورسز نے کابل یونیورسٹی پر ہونے والے سفاکانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے اپنے فیس بک پیج پر اعلان کیا ہے کہ کابل یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حملے کا مقصد حکومت کو بدنام اور کمزور ظاہر کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق کابل یونیورسٹی پر حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کا نام  عادل ہے اور اس کا تعلق افغان صوبہ پنج شیر سے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے لیے اس نے حقانی دہشت گرد نیٹ ورک سے ہتھیار حاصل کیے۔

افغان حکومت نے ابتدا میں افغان طالبان پر حملے کا الزام عائد کیا تھا جس کی طالبان نے تردید کی تھی۔ بعدازاں داعش نے کابل یونیورسٹی اور اس سے کچھ روز قبل ایک اور تعلیمی ادارے کے نزدیک ہونے والے حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔

واضح رہے کہ 2 نومبر کو کابل یونیورسٹی میں ہونے والے سفاکانہ اور دہشت گردانہ حملے میں 30 طلباء شہید ہوگئے اور 27 زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوکر کلاس رومز میں گولیاں برسائی تھیں۔ اور بڑی بے دردی کے ساتھ طلباء کو شہید کیا۔

News Code 1903922

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha