بھارتی پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے پر مسلمان خاندان نے خود کشی کرلی

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے پر مسلمان خاندان نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کرنول  میں پولیس کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے پر مسلمان خاندان نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق ضلع کرنول میں مسلمان خاندان نے بھارتی پولیس کی ہراسانی اور مسلسل چوری کے الزام سے تنگ آکر خودکشی کی۔

ذرائع کے مطابق ضلع کرنول کے علاقے نندیال کے رہائشی 42 سالہ عبدالسلام ان کی 36 سالہ بیوی نور جہاں 14 سالہ بیٹی سلمیٰ اور 10 سالہ بیٹے قلندر نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایک چلتی مال بردار ریل گاڑی کے آگے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

خودکشی کرنے والے شیخ عبدالسلام نے خودکشی سے پہلے ریکارڈ کیے گئے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ اُن کا اور اُن کے اہل خانہ کا چوری کے الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں اب ہمارا کوئی سرپرست نہیں نہ ہی کوئی مددگار ہے، ہم نے اپنے زندگی میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی نہ ہی ریاست کے لیے کچھ غلط کیا۔

شیخ عبدالسلام نے کہا کہ ہمیں پولیس کی طرف سے مسلسل  ہراساں کیا جارہا ہے جسے برداشت نہیں کرسکتا، اس لیے خاندان سمیت خودکشی کررہا ہوں۔

News Code 1903883

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 12 =