ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ

امریکہ میں انتخابات سے قبل ہونے والے پہلے ہی صدارتی مباحثے میں گالم گلوچ اور طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ میں انتخابات سے قبل ہونے والے پہلے ہی صدارتی مباحثے میں گالم گلوچ اور طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ امریکی صدر ٹرمپ اور حریف جوبائیڈن نے مباحثے کے دوران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ساری حدیں پار کر لی گئیں۔ دونوں امیدواروں کی لفظی جنگ اس وقت شدت اختیار کرگئی جب جو بائیڈن نے چین کے ساتھ ٹرمپ کے تجارتی معاہدے پر تنقید شروع کی۔

اس موقعے پر ٹرمپ نے  بائیڈن کی بات کاٹ کر سابق نائب صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن پر چین سے غیر قانونی طور پر کروڑو ڈالر منافع حاصل کرنے کے الزامات دہرانا شروع کردیے۔ مباحثے کے میزبان نے ٹرمپ کو روکنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ باز نہ آئے۔ ٹرمپ کی جانب سے بار بار بات کاٹنے اور الزامات کی بوچھار پر جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں کہہ دیا کہ ’’اس مسخرے سے بات کرنا مشکل ہے، معذرت چاہتا ہوں اس شخص سے‘‘۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ٹرمپ جھوٹے ہیں، ٹرمپ صحت سے متعلق مسائل پر جھوٹ بولتے رہے، ٹرمپ کے پاس ہیلتھ کیئر سے متعلق کوئی پلان نہیں، ٹرمپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔ جوبائیڈن نے کورونا وائرس کی وباء سے اموات اور کیسز میں اضافے کا ذمے دار ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اسکول ٹیچر سے بھی کم ٹیکس دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسخرہ، نسل پرست اور روسی صدر کی کٹھ پتلی کہہ ڈالا۔

واضح رہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات رواں برس نومبر میں ہونے جارہے ہیں۔ ہر چار سال بعد ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل امیدواروں کے مابین ٹیلی وژن پرمباحثے کا انعقاد دہائیوں سے امریکی انتخابات کی روایت کا مستقل حصہ ہے۔

News Code 1903216

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 9 =