خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا

لکھنو میں قائم خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس میں ناکافی شواہد کی بنا پر کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لکھنو میں قائم خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس میں ناکافی شواہد کی بنا پر کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ بھارتی شہر لکھنؤ میں قائم خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار یادو نے 1992ء میں شہید کی گئی بابری مسجد کے انہدام کیس کا فیصلہ پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے سنایا۔

کیس کے فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ بابری مسجدگرانے کا واقعہ اچانک ہوا،اس کے لیے پہلے سے کسی منصوبہ بندی کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔

عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت 16 ستمبر کو مکمل ہوئی تھی جس کے بعد 30 ستمبر 2020 ءکو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی ۔

واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو بھارتی انتہا پسندوں نے بابری مسجد کوشہید کیا تھا جس کے بعد ایودھیا کی انتظامیہ نے 2 مقدمے درج کیے تھے، ایک مقدمہ مسجد کو شہید کرنےوالے ہزاروں نامعلوم ہندو رضاکاروں کے خلاف درج ہوا تھا، جبکہ دوسرا مقدمہ بابری مسجد کوشہید کرنے کی سازش سے متعلق تھا۔

دونوں مقدمے پہلے رائے بریلی اور لکھنؤ کی دوعدالتوں میں چلائے گئے بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر دونوں مقدمے یکجا کیے گئے۔

بھارتی سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد 19 اپریل 2017 ءکو سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کے تمام کیس اسپیشل کورٹ لکھنو منتقل کرنے کی ہدایت دی اور حکم دیا کہ دو سال کے اندر ٹرائل ختم کیا جائے ۔

بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ گزشتہ سال نومبرمیں سناچکی ہے جس میں عدالت نے بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ رام مندرکے حامیوں کےحق میں دیا تھا۔

News Code 1903215

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 4 =