سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے مسئلہ کشمیر کو نہیں ہٹایا جاسکتا

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے بھارتی اقدامات پر اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ " بھارت کے کہنے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بھارت سے کشمیر کا الحاق اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق نہیں ہوا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے بھارتی اقدامات پر اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ " بھارت کے کہنے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بھارت سے کشمیر کا الحاق اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق نہیں ہوا۔

منیر اکر نے کہا کہ بھارتی نمائندہ یا تو خود کو یا پھر بھارتی عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے بھارت کو یاد دلایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے ایجنڈے سے کشمیر کو نہیں ہٹایا جاسکتا، جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل کا ایجنڈا قائم کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق طے کیا گیا تھا اور صرف کونسل کے اتفاق رائے سے ہی اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے، 'ایک رکن یک طرفہ طور پر ایجنڈے کو تبدیل نہیں کر سکتا'۔

واضح رہے کہ بھارت نے رواں ہفتے کے آغاز میں اقوام متحدہ کے ادارے سے کہا تھا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے کشمیر کو ہٹائے تاکہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں اس معاملے کو اٹھانے سے روکا جاسکے جس کا آغاز رواں ماہ کے آخر میں نیو یارک میں ہوگا۔

سلامتی کونسل کی 2019 کی رپورٹ کے بارے میں اپنے بیان میں بھارت نے شکایت کی تھی کہ پاکستان 'کونسل میں فرسودہ ایجنڈا آئٹم پر بات چیت پر زور دیتا ہے' جس کی وجہ سے 'تمام معاملات کو مستقل طور پر کونسل کے ایجنڈے سے ہٹانے کی ضرورت ہے'۔

5 اگست ، 2019 سے جب سے بھارت نے متنازع علاقے کو غیر قانونی طور پر اپنے ساتھ ضم کیا ہے، پاکستان نے چین کے تعاون سے مسئلہ کشمیر کو 3 بار سلامتی کونسل کے اندر اٹھایا ہے۔

تاہم بھارت کا مؤقف ہے کہ بھارت کے ساتھ الحاق کے بعد مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم ہوگئی ہے اور اس لیے اسے کونسل کے ایجنڈے سے ہٹا دینا چاہیے۔

News Code 1902739

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =