حضرت عباس (ع) وفا ، ادب، شجاعت اور سخاوت کا مظہر ہیں

نویں محرم کا دن تاسوعای حسینی اور حضرت عباس (ع) کے نام سے موسم ہے۔ امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ نویں محرم کے دن لشکر یزید نے حضرت امام حسین (ع)اور ان کے اصحاب کا محاصرہ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نویں محرم کا دن تاسوعای حسینی اور حضرت عباس (ع) کے نام سے موسم ہے۔ امام جعفر صادق (ع) سے منقول  ہے کہ نویں محرم کے دن لشکر یزید نے حضرت امام حسین (ع)اور ان کے اصحاب کا محاصرہ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا۔ حضرت عباس علیہ السلام جو "ابوالفضل" اور "علمدار کربلا" کے نام سے مشہور ہیں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت ام البنین کے فرزند ہیں۔ حضرت عباس (ع) وفا ، ادب، شجاعت اور سخاوت کا مظہر ہیں۔ حضرت عباس علیہ السلام عظیم ترین صفات اور فضائل کا مظہر تھے شرافت ، شہامت ، وفا ، ایثار اور دلیری کا مجسم نمونہ تھے۔ واقعہ کربلا میں حضرت عباس علیہ السلام نے مشکل ترین اور مصائب سے بھرے لمحات میں اپنے آقاومولا امام حسین علیہ السلام پر اپنی جان قربان کی اور مکمل وفا داری کا مظاہرہ کیا اور مصائب کے پہاڑوں کو اپنے اوپر ٹوٹتے ہوئے دیکھا لیکن ان کے عزم وحوصلہ، ثابت قدمی اور وفا میں ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا اور یہ ایک یقینی بات ہے کہ جن مصائب کا سامنا جناب عباس علیہ السلام نے کیا ان پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا فقط اسی شخص کے لئے ممکن ہے کہ جو خدا کا مقرب ترین بندہ ہو ۔ ابن مرجانہ اور عمر بن سعد اپنے لشکر کی کثرت پر خوش تھے اور امام حسین (ع) کو ان کی فوج کی قلت کے باعث کمزور و ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب امام حسین (ع) کا کوئی یار و مددگار نہیں آسکتا اور عراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے۔ نویں محرم کو عمر سعد نے عبید اللہ ابن زيادہ  کی خوشنودی جنگ کا آغاز کرنے کے لئے لشکر امام حسین کی طرف تیر بھی برسائے نویں محرم کو شمرملعون بھی کربلا کے میدان میں پہنچ گیا۔ خاندان رسول اکرم(ص) کے چھوٹے چھوٹے بچے سہمے ہوئے ہوئے تھے آل رسول (ص) کے بچوں پر پیاس کا غلبہ تھا اور جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے  لیکن امام حسین (ع) نے دشمن سے عبادت و بندگی خدا کے لئے ایک رات کی مہلت طلب کرلی اور شب عاشور حضرت امام حسین (ع) نے اپنے معبود سے خوب راز و نیاز کرتے ہوئے عہد کیا کہ  اے میرے معبود میں تری راہ میں سب کچھ قربان کرنے کے لئے آمادہ ہوں، اور بچپن میں اپنے نانا سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوں امام حسین (ع) نے عاشور کے دن اپنے اصحاب اور اولاد اور اپنی قربانی دیکر دین اسلام کو اپنے نام کرلیا ، اب دین اسلام کی پہچان حضرت امام حسین علیہ السلام کے بغیر ممکن نہیں ہے خواجہ اجمیری کے مطابق حسین (ع) اسلام ہیں اور اسلام ، حسین ہے بلکہ حسین (ع) اسلام کو پناہ دینے والے ہیں۔

News Code 1902583

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 7 =