امریکہ نے داعش کو خطے میں بد امنی پھیلانے اور نیل سے فرات تک اسرائیل کی تشکیل کے لئے بنایاتھا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ذرائع ابلاغ کے ڈائریکٹروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے داعش کو خطے میں بد امنی پھیلانے اور نیل سے فرات تک بڑے اسرائیل کی تشکیل کے لئے بنایاتھا لیکن ایران نے داعش کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ذرائع ابلاغ کے ڈائریکٹروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے داعش کو خطے میں بد امنی پھیلانے اور نیل سے فرات تک بڑے اسرائیل کی تشکیل کے لئے بنایاتھا لیکن ایران نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ملکر داعش کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

صدر حسن روحانی نے ایران پر امریکہ کے اقتصادی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی دباؤ شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی معاندانہ پالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں۔ ایران کے خلاف  امریکہ کا اقتصادی دباؤ اسرائیل اور سعودی عرب کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب دونوں مشترکہ ایٹمی معاہدے کے خلاف تھے۔ اسرائیل اور سعودی عرب نے امریکہ کے موجودہ صدر کو مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے پر اکسایا ، لیکن وہ اپنے اس ہدف میں بھی ناکام ہوگئے۔ امریکہ اب مشترکہ ایٹمی معاہدے کے خلاف قدم اٹھانا چاہتا ہے لیکن اسے ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ ہم نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے ذریعہ عالمی برادری کے تمام شکوک اور شبہات کو دور کردیا اور یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے خلاف اقدام کرنے میں سخت ناکامی کا سامنا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ میں کوئی بھی حکومت آئے وہ اپنی رفتار تبدیل کرنے پر مجبور ہوگي۔ ہم امریکی پابندیوں کے باوجود ترقی اور پیشرفت  کی سمت گامزن ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ نے خطے میں بد امنی پھیلانے کے لئے داعش کو تشکیل دیا تھا اور وہ داعش دہشت گرد تنظیم کے ذریعہ نیل سے فرات تک بڑے اسرائیل کا خواب دیکھ رہا تھا جسے ایران نے علاقائی حکومتوں کے ساتھ ملکر شکست سے دوچار کردیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ امریکی صدرٹرمپ  زیادہ بولتے ہیں حال  ہی میں اس نے کہا ہے کہ  اگر وہ امریکی صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو ایران کے ساتھ پہلے ہی ہفتہ میں معاہدہ کریں گے ۔ صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے جس طرح خارج ہوا ہے ویسے ہی اگر واپس آجائے اور مشترکہ ایٹمی معاہدے میں موجود دیگر ارکان سے معذرت خواہی کرے تو وہ آج بھی ایسا کرسکتا ہے لیکن اگر وہ کوئی دوسرا اقدام انجام دینا چاہتا ہے تو اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔

News Code 1902520

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 11 =