متحدہ عرب امارات نے اسرائيل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے امریکہ کو ٹیکس اور باج ادا کیا ہے

امریکہ کی خارجہ تعلقات سے متعلق کمیٹی کی رکن نے امریکہ کی طرف سے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کو بعید قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائيل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے امریکہ کو ٹیکس اور باج ادا کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں امریکہ کی خارجہ تعلقات سے متعلق کمیٹی کی رکن اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی  پروفیسر شیریں ہینٹر نے امریکہ کی طرف سے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کو بعید قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ  متحدہ عرب امارات نے اسرائيل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے امریکہ کو ٹیکس اور باج ادا کیا ہے۔ عالمی اور اسلامی تجزيہ نگاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے فلسطینی مسلمانوں اور عرب عوام کے ساتھ بہت بڑي خیانت اور غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائيل کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کی روشنی میں اسرائیل مغربی پٹی کے بعض علاقوں کا مقبوضہ فلسطین کے ساتھ الحاق روک دےگا جبکہ امریکہ کی طرف سے امارت کو ایف 35 طیاروں  کی فراہمی کا راستہ بھی ہموار ہوجائےگا۔  لیکن اسرائيل کے وزير اعظم نے کہا ہے کہ یہ دونوں چیزیں اسرائیل اور امارات کے معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔ امریکہ کی طرف سے امارات کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت کے بارے میں مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیریں ہینٹر نے کہا کہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا امریکہ امارات کو ایف 35 طیارے فروخت کرےگا یا نہیں۔ البتہ ٹرمپ نے ہمیشہ مال اور پیسہ وصول کرنے کے سلسلے میں ہتھیاروں کی فروخت کی حمایت کی ہے لیکن اس سلسلے میں امریکہ میں موجود اسرائیل اور اس  کے حامیوں کا مسئلہ اہم ہے۔ حالیہ معاہدے کے باوجود اسرائيل نے عرب ممالک کوپیشرفتہ ہتھیار فروخت کرنے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور امارات کو ایف 35 کی فراہمی کے بارے میں اسرائیلی حکام کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکہ کی خارجہ تعلقات سے متعلق کمیٹی کی رکن نے خلیج فارس کے عرب ممالک میں امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں سبقت کے بارے میں مہر نیوز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  ابو ظہبی کے ولیہعد محمد بن زاید امریکہ کی قربت حاصل کرنے کے متمنی ہیں وہ  امریکہ کے اصلی  اتحادی بننا چاہتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں اسے اس سلسلے میں مدد ملےگی ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ امارات کے حکام میں ایران کے بارے میں وسوسہ پایا جاتا ہے لہذا اماراتی حکام اسرائیل کو اپنی سپراور ڈھال بنانا چاہتے ہیں کیونکہ امارات اور خلیج فارس کے دیگر عرب ممالک میں خطے سے امریکی فوج کے انخلاء یا کمی کے بارے میں سخت تشویشس پائی جاتی ہے لہذا خلیج فارس کے عرب ممالک ایران کی عداوت اور دشمنی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں تاکہ ایران کے مقابلے میں اسرائيل ان کی ڈھال اور سپر بن جائے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے جس کی فلسطین کے تمام سیاسی گروپوں نے مذمت کی ہے ادھر ترکی، ایران ، تیونس ، ملائشیا، مراکش سمیت کئی مسلم ممالک نے بھی امارات کے اس اقدام کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت قراردیا ہے۔  فلسطینی صدر محمود عباس نے امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے فلسطینی سفیر کو متحدہ عرب امارات سے واپس بلالیا ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب سمیت کئي عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں صف میں کھڑے ہیں ۔

News Code 1902497

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 4 =