سعودی عرب سے بھی اسرائیل کے ساتھ  سفارتی تعلقات برقرار کرنے کی توقع ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرنے کی توقع ہے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ڈیل میں سعودی عرب بھی شامل ہو جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے بھی اسرائیل کے ساتھ  سفارتی تعلقات برقرار کرنے کی توقع ہے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ڈیل میں سعودی عرب بھی شامل ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس بریفنگ کے دوران کہا کہ سعودی عرب امریکہ اہم اتحادی ملک ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس کے خفیہ تعلقات برقرار ہیں جنھیں اب باقاعدہ طور پر قبول کرنے کا وقت آگیا ہے اور امید ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ڈیل میں سعودی عرب بھی شامل ہو جائے گا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے داماد نے بھی کہا تھا کہ سعودی عرب جلد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرلے گا کیونکہ ایسا کرنا سعودی عرب کے مفاد میں ہے سعودی عرب اور اسرائیل کا اتحاد ایران کے خلاف مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ ادھرفلسطینیوں نے امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردیئے ہیں فلسطینی مفتی نے اماراتی شہریوں پر مسجد الاقصی میں داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کا فتوی دیدیا ہے۔ امارات کو دنیا اور آخرت میں شکست اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا کیونکہ امارات کے اس اقدام کو اسلام، مسلمانوں اور فلسطینیوں کے ساتھ بہت بڑی غداری اور خیانت قراردیا جارہا ہے۔ ایران، ترکی اور تیونس سمیت کئي مسلم ممالک نے امارات کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

News Code 1902400

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 8 =