سعودی عرب، بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں

اسرائیل کے انٹیلی جینس کے وزیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور عمان بھی متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلنے اور اسرائیل کے ساتھ امارات جیسا معاہدہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے انٹیلی جینس کے وزیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور عمان بھی متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلنے اور اسرائیل کے ساتھ امارات جیسا معاہدہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ اسرائیل کے انٹیلیجنس کے وزير نے کہا کہ  دیگر مسلمان ممالک سے بھی آئندہ برس تک معاہدوں کا امکان ہے۔  

اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے انٹیلی جینس ایلی کوہن نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ، عمان اور بحرین سے بھی امارات جیسے معاہدے ہونے والے ہیں ، اس کے علاوہ مسلمان افریقی ممالک سے بھی سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدے ہوجائیں گے۔

اس نے کہا کہ میرے خیال میں سعودی عرب ، عمان اور بحرین لازمی طور پر ایجنڈا کا حصہ  ہیں اور میرے تجزیے کے مطابق آئندہ برس میں مسلم افریقی ممالک سے بھی امن معاہدے ہوجائیں گے جن میں سوڈان سرِ فہرست ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ، بحرین اور عمان اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ  متحدہ عرب امارات  کے معاہدے کا خیر مقدم  کرچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کو نتیجہ تک پہنچانے میں امریکہ کو مدد فراہم کی ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے امریکہ، سعودی عرب  سمیت متعدد ممالک سے رابطے میں ہے۔

جمعرات کو عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد مسلم ممالک نے متحدہ عرب امارات کو غدار قراردیدیا ہے جبکہ فلسطین نے اپنا سفیر امارات سے واپس بلا لیا ہے۔

News Code 1902327

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha