ایرانی صدر کی فرانسیسی صدر سےگفتگو/ امریکی اقدام سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے خلاف

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ ٹیلیفون پرگفتکو میں مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے دستبردار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے میکانزم سے استفادہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ ٹیلیفون پرگفتکو میں مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے دستبردار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کے میکانزم سے استفادہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ امریکہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہوچکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر میکرون نے ایرانی صدر کو ٹیلیفون کیا ۔ صدر حسن روحانی نے ٹیلیفون پر گفتگو میں واضح کیا ہے کہ یورپی ممالک کو امریکہ کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہیے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں اور منہ زوری کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ صدر روحانی نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے مطابق 18 اکتوبر کو ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی اور امریکہ کا کوئی بھی اقدام سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہوگا۔

 صدر روحانی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ اور سکیورٹی کونسل کی قرارداد ایک عالمی معاہدہ ہے اور اس کے خلاف امریکہ کی ہر کوشش اور سازش کو ناکام بنانا معاہدے میں شریک  تمام فریقوں کی ذمہ د اری ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں روس ، چین اور تین یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کو امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

فرانس کے صدر نے بھی اس گفتگو میں مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف  ہتھیاروں کی پابندی ختم ہونے کی مدت میں توسیع کے بارے میں امریکہ اور فرانس کے نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے اور ہم نے امریکی حکام کو اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے۔

News Code 1902238

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 2 =