نائجیریا  کی عدالت نے 22 سالہ گلوکار کو سزائے موت سنا دی

نائجیریا میں ایک اسلامی عدالت نے توہین مذہب کے جرم میں 22 سالہ گلوکار کو سزائے موت سنا دی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نائجیریا میں ایک اسلامی عدالت نے توہین مذہب کے جرم میں 22 سالہ گلوکار کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی نائجیریا کی ریاست کانو میں 22 سالہ یححیٰ شریف امین کا واٹس ایپ پر ایک گانا وائرل ہوا تھا، گانے کے بول میں توہین رسالت کی گئی تھی جس پر ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ پولیس نے نوجوان گلوکار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں اس پر انسداد توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ملزم نے الزامات کی تردید نہیں کی۔ جج محمد کانی نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو سزائے موت سنا دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ گلوکار یححیٰ شریف کو فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت حاصل ہوگی۔ شمالی نائجیریا کی ریاست کانو میں شرعی قانون نافذ ہے اور 1999 سے اب تک متعدد افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن اب تک پھانسی کی صرف ایک ہی سزا پر عمل درآمد ہوا ہے۔

News Code 1902209

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 6 =