ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع، امریکی پروپیگنڈہ کا حصہ ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کی توسیع کی تلاش و کوشش محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ کے ساتھ گفتگو میں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان رامین مہمانپرست نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کی توسیع کی تلاش و کوشش محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیاں سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے مطابق اس سال اکتوبر کے مہینے میں ختم ہو جائیں گی اور اس سلسلے میں امریکہ ایران کے خلاف تبلیغاتی اور نفسیاتی جنگ سے استفادہ کررہا ہے۔

مہمان پرست نے کہا کہ امریکی حکام  نقسیاتی جنگ ، مشترکہ ایٹمی معاہدے اور ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کے موضوعات کے ذریعہ امریکہ کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر خود قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور قرارداد کے مطابق اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں اپنی شکست سے بچنے کے لئے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کررکھا ہے ۔ ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع امریکی نفسیاتی جنگ کاحصہ ہے اور امریکہ کو اس میدان میں بھی ایران کے خلاف شکست نصیب ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ یورپی ممالک بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے کے امتحان میں ناکام اور مردود ہوگئے ہیں اور انھوں نے ثابت کردیا ہے کہ  ان میں امیرکہ کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہے۔

News Code 1902195

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =