سعودی عرب کو پاکستانی عوام کی خواہش کو مد نظر رکھنا چاہیے

پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالرقرضہ کی واپسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب پر کافی اقتصادی دباؤ تھا اس لئے سعودی عرب کا قرضہ وقت سے پہلے ادا کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈیلی پاکستان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالرقرضہ کی واپسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب پر کافی اقتصادی دباؤ تھا اس لئے سعودی عرب کا قرضہ وقت سے پہلے ادا کردیا۔

اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جیو نیوز کے پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " اپوزیشن میرے بیان کو سمجھنے سے قاصر رہی اور اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کررہی ہے، اپوزیشن تقاضہ کرتی ہے ہمیں کشمیر کے ایشو کو ہر مناسب فورم پر اٹھانا چاہیے، ہم اقوام متحدہ میں اسے ایک سال میں تین مرتبہ لے گئے، اپوزیشن کشمیر کے مسئلے کو سیاست کی نذر نہ کرے، معلوم ہے اپوزیشن کی بہت مجبوریاں ہیں، انہیں آگے بہت مواقع ملیں گے"۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب سے اچھے تعلقات ہیں، ہمیں احساس ہے کہ کتنے پاکستانی وہاں ہیں، ہمیں اس چیز کا بھی احساس ہے کہ انہوں نے کتنا اور کہاں  ہمارا ساتھ دیا، اس زمین کی حفاظت کے لیے ہم اپنی جان دینے کو تیار ہیں لیکن سعودی عرب کو بھی پاکستانی عوام کی خواہش کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سبھی اسلامی ممالک کشمیر کا درد سمجھ رہے ہیں اس میں سعودی عرب بھی شامل ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری گزارش ہے اور میں کہتا رہاہوں کہ مقبوضہ کشمیر پر کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس مناسب فورم ہوگا، سفارتی دنیا میں جو اس کا اثر ہوگا وہ کسی اور چیز کا نہیں ہوگا اور سعودی عرب کو اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہیے۔

قریشی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں سعودیہ کی اہمیت ہے اور اس کا وزن زیادہ ہے، اگر وہ ہمارے پلڑے میں پڑ جاتا ہے تو او آئی سی کا اجلاس مناسب ہوسکتا ہے۔

ایک ارب ڈالر واپسی کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’کورونا وائرس کی وجہ سے سعودیہ کی معیشت پر کافی دباؤ آیا ہے، تیل کی قیمتیں جس طرح گری ہیں یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اس کا اثر ان کی معیشت پر برا پڑا، انہوں نے ہماری مشکلات کو سمجھا اور ہم نے ان کی مشکلات کو سمجھنا ہے اس لئے ہم نے ان کا قرضہ فوری طور پر واپس کردیا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کشمیر کے مسئلہ اور پاکستان و چین کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اسی طرح کوشش کررہا ہے جس طرح اس نے پاکستان کے وزير اعظم عمران خان کو ملائشیا میں ہونے والے اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت سے روک دیا تھا ، جس کی وجہ سے پاکستانی وزير اعظم کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کافی سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان نے چین سے ایک ارب ڈالر لیکر سعودی عرب کو واپس کئے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوری کا انداز ہوسکتا ہے اور پاکستان یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں مستقل اور آزاد عمل کرتا ہے اسے سعودی عرب کی ہدایات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

News Code 1902170

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 7 =