پاکستان نے سعودی عرب کا قرضہ واپس کردیا/ مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کا عدم تعاون

پاکستان نے ڈیڑھ برس قبل سعودی عرب سے لیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرض میں سے ایک ارب ڈالرقرضہ واپس کردیا ہے سعودی عرب مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی ہمراہی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان نے ڈیڑھ برس قبل سعودی عرب سے لیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرض میں سے ایک ارب ڈالرقرضہ واپس کردیا ہے سعودی عرب مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی ہمراہی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انتہائی باخبرذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے بعد عالمی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کرجانے کے ڈر سے ایک ارب ڈالر ادا کیے گئے۔

وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے گذشتہ روز ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودیہ کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے منفی اثرات زائل کرنے کے لیے پاکستان کے دیرینہ دوست چین نے آگے بڑھتے ہوئے ایک ارب ڈالر قرضہ فراہم کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 3سال کے لیے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج میں 3 ارب ڈالر نقد اور 3.2 ارب ڈالر مالیت کی موخر ادائیگی پر تیل اور گیس کی سہولت شامل تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کر دیئے ہیں۔ ادھر ذرائع کے مطابق سعودی عرب مسئلہ کشمیر میں پاکستانی کی ہمراہی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے سعودی عرب کا زیادہ تر جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔

News Code 1902088

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =