آیا صوفیہ مسجد کا شمار ترکی کی اہم مساجد میں ہوتا / مسجد کی اندرونی ساخت اسلامی معماری کا مظہر

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے ترکی کے شہر استنبول میں واقع آیا صوفیہ مسجد کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیا صوفیہ مسجد کا شمار ترکی کی اہم مساجد میں ہوتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے ترکی کے شہر استنبول میں واقع آیا صوفیہ مسجد کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیا صوفیہ مسجد کا شمار ترکی کی اہم مساجد میں ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک انگریزی مقالہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گيا ہے کہ سلطان محمد فاتح نے اس جگہ کو ایک پادری سے خریدا تھا اور پھر اسے مسجد میں تبدیل کردیا ۔ اس مسجد کی داخلی نقاشی اور کاشی کاری سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسجد اسلامی معماری کا شاہکار ہے کلیسا نہیں ہے۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ترک صدر اردوغان کے اقدام کے بعد تمام عیسائيوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو 1942 ء سے پہلے کے تمام میوزیمز کو مسجد اور کلیسا میں تبدیل کردینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے مشیر نے آیا صوفیہ مسجد کو دوبارہ میوزیم میں تبدیل کرنے کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیا پمپئو کی کوئی اور فرمائش نہیں ہے؟

ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ ترکی کے مسلمان اسلام کے پابند ہیں اور مساجد کے ساتھ ان کی والہانہ محبت ہے ترک مسلمانوں کی اہلبیت علیھم السلام کے ساتھ بھی گہری محبت ہے ترک صدر کا عاشور کے دن امام حسن و حسین علیھما السلام کے بارے میں حدیث بیان کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ترکی کے مسلمانوں کی خاندان رسالت (ص) کے ساتھ گہری محبت ہے۔

واضح رہے کہ مصطفٰی کمال اتاترک نے 1935ء میں سلطنت عثمانیہ کو ختم کرکے جامع مسجد آیا صوفیہ کو نماز کے لیے بند کر کے اسے عجائب گھر بنا دیا تھا۔

 اب آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے پر امریکہ، یورپی یونین سمیت کئی ممالک اور مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ترک صدر پر تنقید کی ہے۔

News Code 1902012

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 8 =